پٹنہ3ستمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر کنہیا کمار بیگو سرائے سے سی پی آئی کے امیدوار کے طور پر مہا گٹھ بندھن( آر جے ڈی، کانگریس، ہم) کے تعاون سے 2019 میں لوک سبھا الیکشن لڑیں گے۔
سی پی آئی کے ریاستی سیکرٹری ستیہ نارائن سنگھ نے بتایا کہ ان کی پارٹی سمیت تمام لیفٹ چاہتے ہیں کہ کنہیا کمار بیگو سرائے سے 2019 میں لوک سبھا انتخابات لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی اور کانگریس کی طرح دیگر جماعتیں بھی چاہتے ہیں کہ وہ الیکشن لڑیں۔
آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد کے بھی اس سلسلے میں اپنی رضامندی دیئے جانے کے متعلق ستیہ نارائن نے کہا کہ گزشتہ دنوں ان سے ہوئی بات چیت کے دوران انہوں نے ایک نشست کنہیا کمار کے لئے چھوڑنے کے قائل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی نے اگلے عام انتخابات میں بہار میں چھ لوک سبھا سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس بارے میں حتمی فیصلہ مہا گٹھ بندھن کی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد لیا جائے گا۔جن چھ سیٹوں پر سی پی آئی اپنا امیدوار اتارنا چاہتی ہے، ان میں بیگو سرائے، مدھوبنی، موتیہاری، کھگڑیا، گیا اور بانکا شامل ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کنہیا کمار نے بیگو سرائے سے الیکشن لڑنے کو لے کر اپنی رضامندی دی ہے تو ستیہ نارائن نے کہا کہ اس کے لئے وہ تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کنہیا بیگو سرائے سے سی پی آئی کے امیدوار ہوں گے ،مگر مہاگٹھ بندھن کے اتحادی آر جے ڈی، کانگریس، ہم سیکولر اور این سی پی اور دیگر لیفٹ کی انہیں حمایت حاصل ہوگی ۔کنہیا بیگو سرائے ضلع کے برونی ڈویژن تحت بیہٹ پنچایت کے باشندہ ہیں جبکہ ان کی ماں ایک آنگن باڑی خادمہ اور ان کے والد ایک چھوٹے کسان ہیں۔ کبھی لیفٹ کے لیے گڑھ تصور کیے جانے والے بیگو سرائے سے فی الحال ایم پی بی جے پی کے سینئر لیڈر بھولا سنگھ ہیں۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں آر جے ڈی امیدوار تنویر حسن دوسرے اور سی پی آئی امیدوار راجندر پرساد سنگھ، جے ڈی یو کی حمایت سے تیسرے نمبر پر رہے تھے۔